فکر انسان اور بےبسی
Poet: Mohammad shaukat mehmood By: Mohammad shaukat mehmood, Jhelumزمین و آسمان کی وسعتوں کومیں دیکھ تو چکا،لیکن
ان کی حقیقت ہے کیا پتامجھ کونہیں
سانسوں کا چلنا دل کا دھڑکنا میں دیکھ چکا لیکن
یہ عمل ہے کیسے ممکن پته مجھ کو نہیں
موت تو بظاہر عمل ہے میرے خود کے مرنےکا
اسں میں پوشیده راز کیا،پته مجھ کو نہیں
کوئلیں بلبلیں گنگناتی ہیں اس چمن میں لیکن
ان کے دل میں ھوتا ہے کیا،پته مجھ کو نہیں
دانے کے عمل کو تو میں جان چکا لیکن
اس میں پوشیده زندگی ھے کیسے، پتہ مجھ کو نہیں
میری آنکھ جو دیکھ رھی ھے،چمن کےنظاروں کو
یہ سب تخلیق ھے کس کی،پتہ مجھ کو نہیں
چمن کی زندگی کے چند سالوں میں دیکھ چکا لیکن
آگے ھو گی زندگی کیسی،پتہ مجھ کو نہیں
جنت جوتونے بنائی ہی،میرے لیے ہے
میرے نہ ھونےسے وه ھوگی کیسے،پتہ مجھ کو نہیں
آتے بھی اور جاتےبھی ہیں یہاں سے ہم
آتےہیں کہاں سے اور جاتے ہیں کہاں،پتہ مجھ کو نہیں
سوچ تو ٹکرا رہی ہے ان دیکھی حدوں سے،شوکت
دیکھنا کیا چاہتا ہے،پتہ تجھ کونہیں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






