قسمت

Poet: Seemab Aqil By: Seemab Aqil, Hyderabad

قسمت کو میں نے ایسے ہی پایا ہے
انتظار کے لمحات میں بھی ٹرین کو چھوٹتے ہوئے پایا ہے
کبھی انجانے میں بھی ٹرین میں خود کو بیٹھے ہوئے پایا ہے
قسمت کو میں نے ایسے ہی پایا ہے
محبت کی طلب رکھنے والوں کو تنہا کھڑا ہوا پایا ہے
محبت پا لینے والوں کو بےغرض و بےنیاز ہجوم میں پایا ہے
قسمت کو میں نے ایسے ہی پایا ہے
پہاڑ کی طرح مضبوطی سے طوفانوں میں بھی کھڑا پایا ہے
کبھی بارش کی بوندوں کی طرح نرمی سے گرتے ہوئے پایا ہے
قسمت کو میں نے ایسے ہی پایا ہے
ہاں ! مانا کہ شکوے ہزار ہیں اس قسمت سے مجھے اپنی
شکایات بھی انہی سے ہے جس کو بس اپنا ہمراز پایا ہے
ہاں قسمت کو میں نے اپنا ،صرف اپنا ،بس اپنا رہبر پایا ہے
قسمت کو میں نے حسین بہت حسین بس حسیں پایا ہے

Rate it:
Views: 864
23 Jan, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL