لمحہ
Poet: palak gopalganjvi By: عمران نظیر, گوپال گنج، بہارمیں جاتی ہوں، میں جاتی ہوں
میں جاکے کبهی نہ آتی ہوں
مجهے ہنس کے دیکهو یا نفرت سے
یا آنسو سے مجهے تم نہلادو
آئوں گی نہ میں پهر ہوکے جدا
تم افسوس میں دریا بہوا دو
تم جانو مجهے یا نہ جانو
تم مانو مجهے یا نہ مانو
میں دید ہوں تیری چهن بهرکی
پہچانوں مجهے تم پہچانو
آئ ہوں میں چهن بهر کیلئے
پر یاد بہر دے جائوں گی
جاتے ہوئے تیرے دامن میں
اک داغ سفر دے جائوں گی
پگھلو گے ساون بن بن کر
ایسی میں زہر دے جائوں گی
دیکهو نہ مجهے میں کیسی ہوں
سوچو نہ مجهے میں کیسی ہوں
میں جاتی ہوں، میں جاتی ہوں
میں جا کے کبهی نہ آتی ہوں
افسوس ہے میرے بعد تجهے
کچھ کهونے کا کچھ پانے کا
جو ہونا تها سو ہو گیا
اب وقت نہیں پچهتانے کا
اٹهو اور میرے ساته چلو
ہاتهوں میں ملاکے ہاته چلو
پاجائو فہم سنگ دید میری
اور ساری دنیا لانگه چلو
پہچانو مجهے انسان بنو
انسان بنو وہ شان بنو
جس کی قیمت ہو نہ ممکن
تم چندا کے سمان بنو
دیکهو! میں اک لمحہ ہوں
میں لمحہ ہوں تیرے پل کے
جیسے ندیا میں لہر اٹهے
ویسے میری قیمت جلکے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






