لو رات ہجر کی بیت گئی
ہم روتے روتے سو ہی گئے
کچھ اشکوں کی برسات رہی
کچھ یادوں کی سوغات رہی
کچھ باتیں گزرے لمحوں کی
کچھ چہرے دھندلے دھندلے سے
کچھ اپنوں کی تصویروں نے
کچھ زخموں کی زنجیروں نے
کچھ ٹیسوں کی جھنکاروں نے
پھر یوں ہم کو بے حال کیا
کہ سانس بھی لینا محال کیا
لو رات ہجر کی بیت گئی
ہم روتے روتے سو ہی گئے