لوگ جسے معتبر جانتے ہیں
Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Ahmed Shakir, Multanلوگ جسے معتبر جانتے ہیں
ہم اسے اک نظر جانتے ہیں
وہ زمانے کی نظروں میں خدا سہی
ہم جسے اک پتھر جانتے ہیں
ہاتھ بڑھا کر تھام کیوں نہیں لیتے
میرا حال وہ اگر جانتے ہیں
روز تجھے بھولنے کی دعائیں مانگیں
پھر دعاؤں کو بے اثر جانتے ہیں
شاعری کو شوق کہو یا روزگار تم
ہم یہ بھی اک ہنر جانتے ہیں
اک تمھیں اپنانے کے لئے شاکر
ہو گئے ہیں دربدر جانتے ہیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






