لوگ کانٹوں سے زخم کھاتے ہیں
Poet: aik banda By: aik banda, londonلوگ کانٹوں سے زخم کھاتے ہیں
ھم تو پھولوں سے رسواء ھوئے ہیں
مجھے جانچنے والے میرے ظاھر کو نہ دیکھ
کبھی ایک ہنسی کے لیے ہزار بار بکھرتا ھوں
تو جو چاھتا ہے کہ میں اپنے غم کا اظہار کروں
کبھی شاخوں نے بھی پھلوں کی جدائ کا شکوہ کیا ہے
اے دوست یہ نہ سمجھ کہ مجھے کوئی غم ھے
سب سے بڑا غم یہ ہے کہ مجھے کوئ غم نھیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






