لوگ کہتے ہیں کناروں کی طرف دیکھتا ہوں
Poet: By: AB shahzad, Mailsiلوگ کہتے ہیں کناروں کی طرف دیکھتا ہوں
در حقیقت میں نظاروں کی طرف دیکھتا ہوں
میرے محبوب کے جیسا تو نہیں ہے کوئی
اس لیے میں تو بہاروں کی طرف دیکھتاہوں
مار غربت ہی گئی ہے میں کروں تو کروں کیا
بھوک کے مارے مزاروں کی طرف دیکھتا ہوں
آپنا خود آپ مقدر سنواروں گا میں
اس لیے اچھے اداروں کی طرف دیکھتا ہوں
خوب صورت تھا کبھی یار حسیں میرا بھی
اس لیے چاند ستاروں کی طرف دیکھتا ہوں
اس لیے نیند نہیں آتی مجھے تو لوگو
میرے جو ہوئے خساروں کی طرف دیکھتا ہوں
راس آئی نہیں شہزاد محبت مجھ کو
اس لیے ہجر کے ماروں کی طرف دیکھتا ہوں
More Life Poetry






