لگتا نہیں کہ ساتھ نبھاۓ گا دیر تک
لیکن وہ مجھ کو بھول نہ پاۓ گا دیر تک
جو بھی قریب آۓ گا اَس کے اَسے ضرور
وہ میری داستاں سناۓ گا دیر تک
ڈھونڈے گا وہ مجھے نی گلیوں میں ایک دن
ڈھونڈے گا اور مجھ کو نہ پاۓ گا دیر تک
میں ساحلوں کی ریت پہ لکھوں گی اَس کا نام
وہ پانی پر میرے عکس بناۓ گا دیر تک
کس حال میں ہوں اَس کے بعد میں
سن کر اَسے یقین نہ آۓ گا دیر تک