ماضی کے ایک دردناک دور کی سلگتی یادیں
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, karachiنوحہ کراچی
وہ شہر کراچی جو محبت کا امیں تھا
وہ شہر کراچی جو کہ رشک خلد بریں تھا
ہوتا تھا اجالوں کا گماں جسکی شبوں پر
وہ شہر زمیں پر تھا کہ جنت کی زمیں تھا
تعلیم و ہنر صنعت و حرفت کا وہ مرکز
مہران کے ماتھے پہ جو جھومر سا حسیں تھا
عشاق نے شہروں کی دلہن کہہ کے پکارا
قدرت نے یہاں چاند ستاروں کو اتارا
قائد کا بھی اور قائد اعظم کا شہر بھی
عبدالله شاہ غازی سے قلندر کا شہر بھی
دشمن کی نظر لگ گئی پھر میرے شہر کو
غاصب اتر آئے فتح کرنے میرے گھر کو
حاسد ہی تھا جس کو کہ یہ رنگ روپ نہ بھایا
تاراج اسے کرنے وہ لشکر لئے آیا
نفرت کا زہر گھول دیا اسکی فضاء میں
دم جس سے محبت کا گیا گھٹ سا ہوا میں
بارود کی بو آئی گلابوں کے شہر سے
ماتم کی صدا گونجی قہقہوں کے نگر سے
ہر کوچہ و بازار میں غارت گری برپاء
گھر گھر میں میرے شہر کے ماتم ہوا برپاء
کھینچیں گئیں ماؤں کے سروں سے یہاں ردائیں
جھپٹے گئے آنچل میری بہنوں کی عبائیں
اٹھنے لگے گھر گھر سے جنازوں پہ جنازے
چہروں پہ جوانوں کے سجے خون کے غازے
کیوں میں ہی فقط مشق ستم بار ہوا ہوں
بے جرم و خطاء میں ہی گرفتار ہوا ہوں
ظلمت میں اجالوں کے جو مینار ہوئے ہیں
نظروں میں وہ فرعونوں کی غدار ہوئے ہیں
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






