مانا سخنور وہ بڑا مشہور ہے
مسلہ مگر یہ ہے ذرا مغرور ہے
ہوگی ہدایت اب زمانے کی کیا؟؟
عادت سے لکھنے والا جب مجبور ہے
خمر ِ صداقت ہم نے چھوڑی ہی نہیں
بد نام جتنا بھی کرو منظور ہے
لگتا ہے عالم خمر خانہ ہی ہمیں
منہ سے لگانے پر جہاں مجبور ہے
اپنی مٹا دے ذات وہ عاشق کہاں
اب کون ایسا پھر ہوا منصور ہے
پی کر جیا ہے خمر حاجت کی جہاں
دنیا مجھے ناحق کہے مخمور ہے