مانوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم

Poet: آسی رام نگری By: Ghulam, Karachi

مانوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم
ہم کو خوشی ملے تو نہ لیں گے خوشی سے ہم

پھولوں کی آرزو نہ کریں گے کسی سے ہم
کانٹے سمیٹ لائے ہیں ان کی گلی سے ہم

ہم شام غم کو صبح مسرت کا نام دیں
سورج کریں طلوع نہ کیوں تیرگی سے ہم

سچ کے لئے ہم آج کے سقراط بن گئے
پیتے ہیں جام زہر کا اپنی خوشی سے ہم

ہم مل کے خود سے خود کو بھی پہچانتے نہیں
اپنے لیے بھی بن گئے ہیں اجنبی سے ہم

غم کھاتے کھاتے ہو گیا مانوس غم مزاج
ہو جاتے ہیں فسردہ و محور خوشی سے ہم

ہم کو وطن میں اب کوئی پہچانتا نہیں
اپنے وطن میں پھرتے ہیں اب اجنبی سے ہم

بن جائیں کیوں نہ خود ہی نمود سحر کی ضو
آسیؔ ضیا طلب نہ کریں تیرگی سے ہم

Rate it:
Views: 459
07 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL