ماں نے جو درد دل کی صدا دی، نہیں سنا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

ماں نے جو درد دل کی صدا دی، نہیں سنا
اولاد نے کوئی بھی جفا دی، نہیں سنا

جس نے لہو سے سینچ کے رکھا تھا ہر چمن
اس ماں کی ایک حرفِ دعا بھی نہیں سنا

راتوں کو جاگ جاگ کے پالا تھا جن کو وہ
انہوں نے اس کے دل کی صدا بھی نہیں سنا

روٹی بھی خود نہ کھائی، کھلائی تھی جن کو ماں
ان بچوں نے اس کی یہ وفا بھی نہیں سنا

بیمار ماں پڑی تھی تڑپتی ہوئی مگر
بیٹوں نے اس کی کوئی صدا بھی نہیں سنا

گھر جس کے دم سے آج بھی آباد تھا کبھی
اس کو ہی اس گھر میں کہیں جا بھی نہیں سنا

وشمہؔ یہ کیسا عہد ہے، کیسی یہ بے حسی
ماں نے جو رو کے مانگی دعا بھی نہیں سنا

Rate it:
Views: 6
20 Apr, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL