ماں نے جو درد دل کی صدا دی، نہیں سنا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

ماں نے جو درد دل کی صدا دی، نہیں سنا
اولاد نے کوئی بھی جفا دی، نہیں سنا

جس نے لہو سے سینچ کے رکھا تھا ہر چمن
اس ماں کی ایک حرفِ دعا بھی نہیں سنا

راتوں کو جاگ جاگ کے پالا تھا جن کو وہ
انہوں نے اس کے دل کی صدا بھی نہیں سنا

روٹی بھی خود نہ کھائی، کھلائی تھی جن کو ماں
ان بچوں نے اس کی یہ وفا بھی نہیں سنا

بیمار ماں پڑی تھی تڑپتی ہوئی مگر
بیٹوں نے اس کی کوئی صدا بھی نہیں سنا

گھر جس کے دم سے آج بھی آباد تھا کبھی
اس کو ہی اس گھر میں کہیں جا بھی نہیں سنا

وشمہؔ یہ کیسا عہد ہے، کیسی یہ بے حسی
ماں نے جو رو کے مانگی دعا بھی نہیں سنا

Rate it:
Views: 26
20 Apr, 2026
More Sad Poetry