ماہ رمضان آگیا ہے
Poet: حیامسکان By: Fatmah Hussain, Karachiخوشیوں کا لے کر یہ پیام آگیاہے
مبارک ہو مؤمنوں پھر سے رمضان آگیا ہے
جی بھر کے اٹھالو اس ماہ مبارک کا فائدہ
کہ نیکیوں کے انبار کا،
بے حساب اجر وثواب کا مہینہ آگیا ہے،
کھول گئے بخشش کے سبھی دروازے
مانگ لو معافی ، کرلو خوب توبہ بارگاہ الہی میں
کہ مغفرت کا،جہنم سے چھٹکارے کا مہینہ آگیا ہے
ملے گی ہر مشکل سے نجات،
ہوگی بیماری سے شفاء، وبا کا خاتمہ
کہ غم وپریشانی سے نجات کا مہینہ آگیا ہے
مانگو جی بھر کر دعائیں باری تعالٰی سے
کہ دعا کی قبولیت کا مہینہ آگیا ہے
سمیٹ لو اس کی برکتیں سبھی،
رحمتوں کی بارش کا سماں آگیا ہے
محبت،خیال،قدر،احساس،اخلاقیات سبھی کو
سیکھانے
لو پھر سے برکتوں ،محبتوں کا پیام آگیا ہے
ماہِ رمضان آگیا ہے
جو نہ اٹھاسکے اس ماہ مبارک کا فائدہ وہ ہے بڑے ہی خسارے میں،
کہ اس قدر پرنور مہینہ آگیا ہے
ہیں چاروں اطراف رونقیں، عبادتیں، پرنور فضائیں ،
کہ مؤمنوں پھر سے خوشی کا پیام آگیا ہے
جہنم سے خلاصی، مغفرت کا مہینہ آگیا ہے
ہے ہر ایک چہرے پہ مسکراہٹ بکھیری ہوئی،ہوا دل پھر سے تازہ دم ،
جو یہ پھر سے پیاربھرا پیام آگیا ہے
ماہ رمضان آگیا ہے
ماہ رمضان آگیا ہے
مبارک ہو ہر ایک کو اس ماہ کی برکتیں،رحمتیں،فضلیتیں،
بھر لو جھولی اپنی ،اس قدر نوازنے یہ ماہ رمضان آگیا ہے،
مبارک ہو مؤمنوں پھر سے رمضان آگیا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






