ماہیے
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, jhangماہیے
آجا تو جھنگ ماہیا
ہیر کے روضے پر
بن مست ملنگ ماہیا
سب خلقت دنگ ماہیا
کید و کی عمل داری
ہر شہر ہے جھنگ ماہیا
تصویر سجا دنیا
ہم پیا ر کے ماروں پر
تعزیز لگا دنیا
محروم رہا برسوں
اک پیار کے بندھن میں
یہ دل ہی جلا برسوں
خوش رنگ بہاروں میں
ہم ہار گئے سب کچھ
آنچل کے نظاروں میں
باغوں میں بہار آئی
ہر پریم کہانی کا
انجام ہے رسوائی
ہر سمت پکار آیا
جب شکل تیری دیکھی
اس دل کو قرار آیا
جگ رین بسیرا ہے
زرومال کا ناٹک سب
تیراہے نہ میرا ہے
سن دل کی ترنگ ماہیا
سب شیریں مقالوں سے
آکر مل جھنگ ماہیا
دل کی یہ امنگ ٹھہری
شیرافضل ، طاہر اور امجد کی
دلی تو جھنگ ٹھہری
عیدیں شب راتیں ہیں
پھر چاند سے ملنے کی
یہ ساری گھاتیں ہیں
پیار نبھانے کے
مر کر بھی زندہ ہیں
کردار افسانے کے
حالات زمانے کے
اک بار تو دیکھ ہی لو
لمحات دیوانے کے
ہر سمت صفائی ہو
دل زندہ رہے کیسے
جب چاند ہر جائی ہو
یہ دن ہے منگل کا
انصاف تو عنقا ہے
قانون ہے جنگل کا
گھبراؤ نہ تنگی سے
جب پیار پتنگ پیچے
پڑ جائیں جھنگی سے
ہر سمت اندھیرے ہیں
بے لوث کہاں ساتھی
سب فصلی بٹیرے ہیں
چتڑی کے دانے ہیں
کالے دھن والے
جھلے بھی سیانے ہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






