مجھے اب لوٹ جانا ہے۔ نظم
Poet: ایم آر چشتی By: M R Chishti, Muzaffarpur, Bihar, Indiaمرے ہمدم
میرے ساتھی
زمیں کی گود سے سورج نے اپنا سر نکالا ہے
حسیں کرنوں کی بارش سے
سیاہی دھل چکی ہے
اور پھر دنیا کا چہرہ کھل چکا ہے
ہوائیں بند دروازے پہ دستک دے رہی ہیں
مجھ کو واپس لوٹ جانا ہے
اسی گمنام وادی میں
جہاں سورج نہیں جاتا
سنو جاناں!
وہ سپنے جو ہماری ملکیت تھے
اس کو الماری میں تم رکھ لو
وہ لمحے جو کبھی اک دوسرے کے ساتھ گزرے تھے
سجا دینا اسے گلدان میں
ادھوری خواہشوں کا اک الگ البم بنا لینا
یہ آنسو جو مرے جانے پر تیری آنکھوں میں آئے ہیں نا
ان کو امیدوں کے کسی سوکھے ہوئے گل پر چھڑک دینا
میں اپنے لوٹ آنے کے
سبھی وعدے سبھی قسمیں کو رکھ دیتا ہوں الماری کے اک محفوظ خانے میں
پھر اس کو لاک کر کے
چابی اپنے ساتھ لے جاؤں گا
کہ صدیوں بعد جب لوٹا تو
یہ احساس تو ہوگیا
؛کہ میرا پیار سچا تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






