لو دیکھو! ہنس رہا ہوں میں

Poet: ایم آر چشتی By: M R Chishti, Muzaffarpur, Bihar, India

لو دیکھو! ہنس رہا ہوں میں

تمہیں تکلیف تو ہوگی
مرے ہنسنے سے میرے کھلکھلانے سے
کسی رنگین محفل میں
میرے یوں آنے جانے سے
گلی کے موڑ پر
اک چائے خانے میں
کسی کے ساتھ ایسے بیٹھ کر گپے لڑانے سے
تمہیں تکلیف تو ہوگی

تمہیں ایسا لگا تھا نا!
کہ تم سے دور جاکر ٹوٹ جاؤں گا
میں تنہائی میں چھپ کر ہر گھڑی آنسو بہاؤں گا
کہیں جانا ہوا تو جاتے جاتے لڑکھڑاؤں گا
میری حالت کچھ ایسی ہوگی کہ اپنوں سے بھی میں منھ چھپاؤں گا
ارے پگلی
یہ سب باتیں کتابی ہیں
جو لاگو تھیں کسی گزرے زمانے میں
یہ عہد نو ہے
اور اس عہد میں رک جانا سستی کی علامت ہے
مجھے بھی دور جانا ہے
سفر میں تو تمہارے جیسے لاکھوں لوگ آئیں گے
کوئ اک کھو گیا تو پھر کسے پرواہ ہے جاناں
مری آنکھوں میں دیکھو
پھر مری تحریر کو دیکھو
یہ آنسو بے سبب آئے ہوئے ہیں میری آنکھوں میں
میری آنکھیں ہیں جھوٹی پر مری تحریر سچی ہے
ارے پگلی!
ہمیشہ کی طرح سچ کہ رہا ہوں میں
لو دیکھو! ہنس رہا ہوں میں

Rate it:
Views: 668
05 Nov, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL