مجھے ایک شام ادھار دو

Poet: طیبہ حنیف By: طیبہ حنیف, HARIPUR

مجھے ایک شام ادھار دو
کہ بیاں کرنا ہے حال اپنا
کیسے گزارے ہیں شب و روز
کیوں ہوا تباہ حال اپنا

کچھ حال دل تم سنانا، کچھ ہم سنائیں گے
کیسا رہا دورِ ہجر
فراق کی صدیاں
وصل کے لمحے
کیسا رہا ماہ و سال اپنا

ایک شام ادھار دو
کہ ڈھلتا سورج سنگ تمھارے دیکھوں
کاندھے پہ سر رکھ کہ
دردسارے بھلا دوں
اور
ڈھلتے سورج کے حوالے کریں
غم اپنا، ​کرب اپنا، ملال اپنا

گردشِ وقت میں
کیا رہا حاصل، اور
کیا لاحاصل کی تمنا
کیا گنوا دیا، اور کیا رہا قسمت میں
سب بتانا ہے تمہیں
کیسے بُنا وقت نے جال اپنا

مجھے ایک شام ادھار دو
میرے وجود سے یہ بوجھ اتار دو
میری ذات کو عشق سے سنوار دو
میری بے چینیوں کو قرار دو
جو بکھر گیا مجھے میں،،
اسے اک بار نکھار دو
میرےدل میں جو خزاں اتری ہے
اسے اپنی محبت کی بہار دو

مجھے ایک شام ادھار دو

Rate it:
Views: 700
01 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL