بیٹھا تھا دوستوں میں پھر بھی جلا رہی تھی

Poet: صابر گڑھی By: صابر گڑھی, Muzaffargarh

بیٹھا تھا دوستوں میں پھر بھی جلا رہی تھی
مجھ پر یوں یاد اس کی کل حق جتا رہی تھی

خانہ خراب لب سے یوں ہی پھسل گیا تھا
اک روز مجھ سے ہو کر بے دید جا رہی تھی

ناراض اس نے ہو کر منہ پھیر کر کہا تھا
میں ظرف کو ترے بس یوں آزما رہی تھی

سینے میں دفن کی تھی ہاتھوں سے خود محبت
بے باک یاد اس کی مردے جگا رہی تھی

کیوں کر نہ ہوتا بت سے دم کا نکلنا آساں
جب یاد اس کی مجھ کو ہر پل ستا رہی تھی

سب رو رہے تھے میری میت کو دیکھ کر جب
دو چار آنسوں تو وہ بھی بہا رہی تھی

دل پر لگی گڑھی کے پھر گھر بھی کر گئی تھی
میرے ہی پیچھے اس کی میت بھی آ رہی تھی
 

Rate it:
Views: 503
31 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL