محبت اک لفظ تک
Poet: SAHIB BILAL By: SAIB BILAL, Zafarwal,NAROWALمحبت تھی ہماری اک لفظ تک
چاہت تھی ہماری اک لفظ تک
ہم دور رہ کربھی اک دوسرے کے پاس تھے
کیونکہ ہماری محبت تھی اک لفظ تک
کہتی تو سہی کچھ سمجھ کر کچھ مان کر
چلے جاتے اُس کی خاطر ہر جہان کوہِ مکاں تک
جاتے توتھے ہر روز اُس کے درپر صاحب
تھم جاتے قدم یہ سوچ کر
ہماری محبت تھی بس اک لفظ تک ہماری محبت تھی بس اک لفظ تک
جواب
دل کرتا تو ہے دیکھ لوں نظربھرکر اُس کو
پھر سوچتی ہوں کہ وہ مجرم کے میں مجرم
اُس نے دیکھا تو وہ مجرم ،میں دیکھو تو میں مجرم
پھر چھوڑ دی ہم نے اپنی تقدیریں ایک لفظ پر صاحب
ہماری محبت تھی بس اک لفظ تک ہماری محبت تھی بس اک لفظ تک
کچھ اسطرح دی اس نے اپنی محبت کی گواہی مجھ کوصاحب
کہتی ہے جب بولتی ہوں تو لفظوںمیں تمہاری خوشبو آتی ہے ۔
ہم تو اُن کے لفظوں سےکر لتیے ہے دیدار اُن کا صاحب
دیدار تو بس ایک بہانہ اُن کو اپنے پاس بُلانےکا۔
محبت ہوئی بھی تو کس سے ہوئی رےصاحب
جس کو دی تھی زبان محبت نہ کرنے کی۔
محبت نہ کی تھی نہ ہوئی ہے ابھی تک صاحب
لیکن لگتاہےجب ہوگئی وہ بھی کمال ہوگئی
کوئی غم نہیں اس کا ہم سےدور جانے کا صاحب
کیونکہ اسکا دیا ہوا تحفہ تنہائی میرے ساتھ ہے
ملنے کی کس طرح کریں دعا صا حب
اس وقت تک وہ بہت دور کوچ کر چکا ہوں گا
مر مٹنے کی مت کرو ہم سے بات صاحب ؎
یہ انداز ِمحبت ہے تم پر فدا ہونے کا۔
اگر میں شاعر ہوتا
لکھتا اس پراک کتاب
اس میں سب کچھ دیتا چھوڈ
بس لکھتا اس کا اور اپنا ساتھ
بیٹھ کر اک دوسرے کے سامنے
بس لکھتا اس میں اک دوسرے کی بات
وہ مجھ کو دیکھتی میں اس کو دیکھتا
بس لکھتا اس میں اک دوسرے کی یاد
شروع میں اس کا نام اخر میں اس کا نام
بس اسطرح لکھتا میں اپنی محبت کا اختتام۔
چھوڑ جاتا ہے ہر کوئی اس دنیا میں ہمیں کچھ سفر کے بعد صاحب
میرے رب کا ہی مجھ پر کرم ہے کہ بغیر کسی ظرف کے اب تک مجھے پال رہا ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






