محبت سات رنگوں سے سجی تتلی
Poet: عرشیہ ہاشمی By: arshiya hashmi, islam abadمحبت سات رنگوں سے سجی تتلی کی مانند ہے
کہ جب آزاد ہوتی ہے
مہکتی ہے چہکتی ہے
تو کتنی خوبصورت ہم کو دکھتی ہے
یہ ہر رنگ اوڑھ لیتی ہے
بہاروں کا خزاں کا بھی
وفا کا بھی جفا بھی
خدا سے ہو اگر یہ تو
ہمیشہ مسکراتی ہے
ہمارا دل سجاتی ہے
محبت سات رنگوں سے سجی تتلی کی مانند ہے
اگر رشتوں سے ہو تو پھر
فلک سے یہ اترتی ہے
دلوں میں آ سماتی ہے
وفا کی چھت بناتی ہے
خوشی بن کہ یہ گھر بھر میں چہکتی ہے
مہکتہ ہےسکون دل بڑھاتی ہے
محبت سات رنگوں سے سجی تتلی کی مانند ہے
بغاوت کی رتوں میں جب
جفا کا دور دورہ ہو
وفائیں جب سسکتی ہوں
جفا کے گرم صحرا میں
یہ سایہ بن کی چھاتی ہے
محبت سات رنگوں سے سجی تتلی کی مانند ہے
یہ دنیا جب محبت کو کسی مخصوص رشتے میں
ہمیشہ قید کرتی ہے
ہوس کو جب محبت سے ملاتی ہے
تو یہ بھی ظلم سہتی ہے
تو سیاہ رنگ ہوس کا کیوںاس پہ داغ لگتا ہے
اس کے سر تو نوری کہکشاں کا تاج سجتا ہے
محبت بین کرتی ہے
بہت آنسو بہاتی ہے
اداسی اوڑھ لیتی ہے
برف سی خامشی کی سل تلے بے چین رہتی ہے
پھر اک دن اس حبس زدہ ماحول میں
دم توڑ دیتی ہے
محبت رنگوں سے سجی تتلی کی مانند ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






