محبت میں نے صرف تم سے کی تھی
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadمحبت میں نے صرف تم سے کی تھی
نا تھی خبر یہ صرف غم سے کی تھی
نا کبھی کسی سے کی یہ قسم
نا کبھی کسی سے لی یہ قسم
یہ قسم صرف تیری قسم سے کی تھی
محبت میں نے صرف تم سے کی تھی
رات ڈھلنے لگی بنا کچھ کہے
یہ رات شروع تیرے نام سے کی تھی
تمہارے پاس کمی نہیں اس جذبے کی
تمہیں اک اور بھی دل چاہتا ہے
پر میرے پاس کمی ہے اس جذبے کی
کہ میرے دل نے پہلی محبت بے وفا صنم سے کی تھی
محبت میں نے صرف تم سے کی تھی
میری پارسائی کو تیرے سخت لفظوں کے
خنجر نے زخمی کر ڈالا
واہ ماریہ تونے بھی محبت کس بے شرم سے کی تھی
محبت میں نے صرف تم سے کی تھی
نا تھی خبر یہ صرف غم سے کی تھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






