موسم رقیب بن کر کروٹ بدل رہا ہے
Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JACOBABADوہ تھا عجیب قصہ تکرار کرتے کرتے
اقرار کر گیا وہ انکار کرتے کرتے
اس پیار کی حقیقت اب تک کھلی نہ مجھ پر
سب کجھ گنوا دیا ہے یہ پیار کرتے کرتے
ممکن نہیں ہے میرا رستے سے لوٹ جانا
مرنا ہے ساتھ منزل کو پار کرتے کرتے
قربت میں جو ملا ہے فرقت میں کھو گیا ہے
ویران ہو گیا میں بازار کرتے کرتے
موسم رقیب بن کر کروٹ بدل رہا ہے
گل ، خار بن رہے ہیں مہکار کرتے کرتے
قسمت کی مفلسی کا کردار بن گیا ہوں
اب تھک چکا ہوں میں یہ کردار کرتے کرتے
جب بھی ہوا ادھورا ھر کام ہی ہوا ہے
ھر کام رہ گیا ہے ھربار کرتے کرتے
ہے خوشنصیبی میری وہ میر~ سامنے ہے
دم یوں نکل ہی جائے دیدار کرتے کرتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






