موسم رقیب بن کر کروٹ بدل رہا ہے

Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JACOBABAD

وہ تھا عجیب قصہ تکرار کرتے کرتے
اقرار کر گیا وہ انکار کرتے کرتے

اس پیار کی حقیقت اب تک کھلی نہ مجھ پر
سب کجھ گنوا دیا ہے یہ پیار کرتے کرتے

ممکن نہیں ہے میرا رستے سے لوٹ جانا
مرنا ہے ساتھ منزل کو پار کرتے کرتے

قربت میں جو ملا ہے فرقت میں کھو گیا ہے
ویران ہو گیا میں بازار کرتے کرتے

موسم رقیب بن کر کروٹ بدل رہا ہے
گل ، خار بن رہے ہیں مہکار کرتے کرتے

قسمت کی مفلسی کا کردار بن گیا ہوں
اب تھک چکا ہوں میں یہ کردار کرتے کرتے

جب بھی ہوا ادھورا ھر کام ہی ہوا ہے‎ ‎
ھر کام رہ گیا ہے ھربار کرتے کرتے

ہے خوشنصیبی میری وہ میر~ سامنے ہے
دم یوں نکل ہی جائے دیدار کرتے کرتے

Rate it:
Views: 693
01 Mar, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL