محبت کانچ کی گڑیا کی مانند
Poet: Mohammed Masood By: Mohammed Masood , Meadows nottingham ukجو گزروں کبھی میں تمہارے خیالوں میں
تم میرا ہاتھ تھام لینا
میری آنکھوں میں اپنا چہرہ ڈھونڈھ لینا
خاموشی سے، اپنے سینے سے لگا لینا
میری دھڑکن میں اپنا نام سن لینا
قریب اپنے بٹھا کر
الفت کی دو باتیں کر لینا
میرا حال پوچھ لینا
اپنا حال سنا دینا
کچھ قدم میرے ساتھ چل لینا
تحفے میں اک مسکان دے دینا
روک لینا اس پل کو
اک لمحہ میرے نام کر دینا۔
محبت ساتھ ہوتی ہے
محبت خوشبوؤں کی لے
محبت موسموں کا دھن
محبت آبشاروں کے نکھرتے پانیوں کا من
محبت جنگلوں میں رقص کرتی مورنی کا تن
محبت چلچلاتے گرم صحراؤں میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند
محبت اجنبی دنیا میں اپنے گاؤں کی مانند
محبت دل
محبت جاں
محبت روح کا درماں محبت مورتی ہے
اور کبھی دل کے مندر میں کہیں پر ٹوٹ جائے تو
محبت کانچ کی گڑیا
فضاؤں میں کسی کے ہاتھ سے گر چھوٹ جائے تو
محبت آبلہ ہے کرب کا
اور پھوٹ جائے تو
محبت روگ ہوتی ہے
محبت روگ ہوتی ہے، کہا تو تھا
رُلا کے خود بھی روتی ہے، کہا تو تھا
اُسے تم دل کی دھرتی کا پتا مت دو
یہ اس میں درد بوتی ہے، کہا تو تھا
کنارے کے بہت نزدیک لے جا کر
یہ کشتی کو ڈبوتی ہے، کہا تو تھا
ازل سے اس کی عادت ہے، زمانے کو
جگا کے خود یہ سوتی ہے، کہا تو تھا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






