محبتوں میں کبھی یہ اثر نظر آئے

Poet: انیس ابر By: Abbas, Peshawar

محبتوں میں کبھی یہ اثر نظر آئے
وہ ایک بار دکھے عمر بھر نظر آئے

جو سر جھکاؤں تو پیروں میں بیڑیاں دیکھوں
جو سر اٹھاؤں تو نیزے پہ سر نظر آئے

سکون ڈھونڈتے تھک جاؤں اور آخر کار
وہ تنگ گلیوں میں مٹی کا گھر نظر آئے

نہ منزلوں کا پتا ہے نہ راستوں کی خبر
بھٹکتی آنکھوں کو اب راہ بر نظر آئے

یہی تو نوحہ ہے فرقت زدہ ان آنکھوں کا
پیام یار ملے نامہ بر نظر آئے

تبھی تو مانوں کہ ہاں اس کو بھی محبت ہے
جب اس کی آنکھوں میں فرقت کا ڈر نظر آئے

مجھ ایسا بزم میں کوئی تو سر بہ زانو ہو
ان ہنستے چہروں میں اک چشم تر نظر آئے

Rate it:
Views: 369
12 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL