مرشد
Poet: سعدیہ اعجاز By: Sadia Ijaz Hussain (IH), Lahore, University of Educationیہ لوگ جاہل اور فارغ ہیں مرشد
دلوں کے کافر ویسے نمازی ہیں مرشد
چہروں پہ ان کے کئی چہرے ہیں مرشد
اوپر سے گورے اندر سے کالے ہیں مرشد
ایک طرف طرفدار دوسری طرف مخالف ہیں مرشد
لبوں پے تالے آنکھوں کے اندھے ہیں مرشد
یہ کرتے کچھ ---کہتے کچھ اور ہیں مرشد
یہ لفظوں کے قائل دلوں سے بھکاری ہیں مرشد
کھلاتے ہیں شہد مگر زہر ہے مرشد
سمندر میں غوطے لگواتے ہیں مرشد
یہ سچ کو جھوٹ بتاتے ہیں مرشد
سچے کو سولی پہ چڑھاتے ہیں مرشد
کبھی جو کوئی ان کو سچ دکھا دے
پھر معافی بھی یہ منگواتے ہیں مرشد
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






