مزدوری ہم کرتے ہیں
بار ِ جیون ڈھوتے ہیں
بھاگیں روٹی کے پیچھے
جیون بھر یہ کرتے ہیں
مسجد دیکھی مسلک کی
ایسے مسلم ہوتے ہیں
مسجد مسجد دیکھا پر
بندے اب کب ملتے ہیں
دنیا جیسے ایماں ہو
ایسے اب ہم رہتے ہیں
ہم ہی ملزم ہیں اپنے
شکوہ رب سے کرتے ہیں
دل کی لگتی کہتا ہوں
سچ اب ہم کب کہتے ہیں
ہم بھی ظالم ہیں یارو
ظلمت میں چپ رہتے ہیں
سچ تو لگتا ہے کڑوا
اچھا اب ہم چلتے ہیں