مسئلے اور بھی ہیں عشق کے آزار کے ساتھ
Poet: جلال By: جلال, Bahawalpurمسئلے اور بھی ہیں عشق کے آزار کے ساتھ
صرف اک کرب نہیں عمر کی رفتار کے ساتھ
ہائے محرومیٔ قسمت کہ تجھے پا نہ سکے
ہم ہر اک سمت گئے حسرت دیدار کے ساتھ
کیسے میں آپ کی تعظیم بجا لاؤں گا
میری بنتی ہی نہیں حاشیہ بردار کے ساتھ
ابھی خوش رنگ ہے تابانی مرے آنگن کی
رنجشیں ہونے لگیں کیوں در و دیوار کے ساتھ
درس دیتے ہیں بہت لوگ پیمبر والے
بیٹھتا کوئی نہیں مفلس و نادار کے ساتھ
اس کے حصے کا بھی غم مجھ کو عطا کر دے مگر
ان گنت خوشیاں رہیں مولا مرے یار کے ساتھ
گفتگو کا بھی سلیقہ نہیں جن کو شوقیؔ
آج پھرتے ہیں وہی منصب و دستار کے ساتھ
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






