مسلسل قیامتیں

Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHI

نور سحر سے چھین لیں شوخی، شرارتیں
بادِ صباء کی لوٹ لیں نکہت، صباحتیں

پھولوں کے پیرہن بھی دریدہ لہو لہاں
کلیوں کے بانکپن کی کچل دیں نزاکتیں

سورج نے پھر سے اوڑھ لی گرہن زدہ عباء
تاروں نے اس سے توڑ دیں ساری رفاقتیں

خوشیوں کے گیت چھین کر نوحے تھما دیئے
چبھتی رہیں زباں پہ ستم کی شکایتیں

جب سے سجے ہیں ظلم کے بازار شہر میں
رنگ لا رہی ہیں پھر سے پرانی عداوتیں

الله اور رسول کے ناموں کی آڑ میں
طالب ہی ڈھا رہے ہیں مسلسل قیامتیں

ہونٹوں پہ پھر سے خوف کے پہرے لگا دیئے
زنداں کی نذر ہوگئیں پلکوں کی آہٹیں

عرصہ ہوا فرعون کو غرقاب ہوچکے
اب بھی نظر میں آتی ہیں اسکی شباہتیں

ظالم یذید مٹ گیا نا م و نشاں کے ساتھ
آتی ہیں کربلا سے ابھی تک شہادتیں

ہاتھوں کی انگلیوں کو بنا کر قلم اشہر
لکھی ہیں میں نے خون رلاتی حکایتیں

Rate it:
Views: 446
30 Mar, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL