معاف کرنا کسی کو دل سے آسان نہیں ہوتا
گر،یہ اُس رب ِذوالجلال کا فرمان نہیں ہوتا
نفرت اور حسد سے پاک دلوں میں لوگوں
نور بستا ہے فقط، کبھی شیطان نہیں ہوتا
سپرد کردیتا ہے جو سجدوں میں حاجتیں اپنی
دل اُسکا کسی صورت پھر پریشان نہیں ہوتا
ویراں ہیں مساجد اور بازار میں ہجوم
کیسا مسلماں ہے تو کہ پشیماں نہیں ہوتا
خواب میں ہو میسر وصل نبیؐ جسکا مقدر
جنت کا پھر اس دل میں ارمان نہیں ہوتا
وہ مجھ کو بھول کرغیروں میں گم رہے
اس سلوک ناروا پہ اب، میں حیران نہیں ہوتا
چار سو ہیں نعمتیں پھر بھی ہیں شکایتیں
مطمئن کسی صورت یہ انسان نہیں ہوتا
معاف کرنا کسی کو دل سے آسان نہیں ہوتا
گر،یہ اُس رب ِذوالجلال کا فرمان نہیں ہوتا