ملا تو چہرے پہ سالوں کا غبار تھا.
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد، پاکستان.ملا تو چہرے پہ سالوں کا غبار تھ
وہ شخص جس کے جینے کا اپنا معیار تھا.
شکوے شکایتں کسے یاد رہی تھیں
تھاما جو ہاتھ اسکا آنسوؤں کا انبار تھا.
گزری تیرے بغیر کس رنگ میں نہ پوچھ
سانس تھی کہ گویا کوئی شرار تھا.
الفتوں کا موسم مہربان تھا کبھی
وقت بھی کبھی ہم پہ نثار تھا.
برباد کر کے شہر کو مصلے پہ جھک گی
نیک تھا بہت وہ عبادت گزار تھا.
الجھا ہوا سا خود میں روٹھا ہوا ہے جیسے
وہ شخص اپنی ذات میں اک اسرار تھا.
خاموشیوں میں ڈوب کر جو خود کو کھو گی
محبتوں کا شاید وہ طلب گار تھا.
ہر قدم بے یقیں ہے ہر سانس بے وفا،
رخصت ہوا جو میرا اعتبار تھا.
کب نبھا سکا ہے کسی سے آج تک،
وقت تو سدا سے بڑا عیار تھا
حالات ہی بغاوت نہ کر گئے ہوں،
پیماں تو اس کا بڑا میرا طرف دار تھا.
سنچتے رہے ہم جسے خون ء جگر سے،
نفرتوں کا مجھ سے وہ سپہ سالار تھا.
یہ دیکھ کر تکلیف کچھ اور بڑھ گئ
میرا ستم گر ہی میرا انہثار تھا.
ہم ہی معیار سے شاید کہ گر گئے،
ہمارے سواء وہ سب سے وفادار تھا.
ٹوٹ کر عنبر کوئی رویا تھا اسطرح
جیسے کسی طوفان کا کوئی اتار تھا.
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






