ميں نے بيچی ھيں بازار محبت ميں اپنی خبط آنكهيں
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreہزار آنكھوں ميں ديكھيں ھيں مشاہبتيں اس جيسی
كائنات ميں نہيں ملتی مجھے اس جيسی كافر آنكھيں
خالق نے بنائی ہيںكيا اس كی گہری آنكھيں
ان آنكھوں كے كھو جانے كے بعد خاک ہيں ميری آنكھيں
ميری ہستی ہی طلب گار تھی اس كی كامل آنكھيں
اپنی آنكھوں كے كٹوروں ميںچھپا ركهی ہيں اس كی آنكھيں
بےچين ھو كر تک رھی ھيں اس كی واپسی كی راہيں
ميں نے بيچی ھيں بازار-ے-محبت ميں اپنی خبط آنكهيں
اس كی ديد كو ترس رھی ھيں ميری منتظر آنكھيں
بھگت رھی ھيں خميازه وفا كو نبھانے كے لئے ميری آنكھيں
ميںجب بھی ڈوب كر دیكھتی تھی وه جمال آنكھيں
كہتا تھا جان زندگی ھيں ميری ليكن ميری برداشت نہيں ھيں تيری آنكھيں
فراق كے بعد سے كيفيت-ے-كم خواب ھيں ميری آنكھيں
اس كی ديد كے ليے كاسئہ گدائی ھيں ميری آنكھيں...
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






