مُلا ، عالم اور اسلام
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliاسلام کی خاطر تری تقریر نہیں ہے
اسلام کا تو سچا تُو سفیر نہیں ہے
کہتا ہے جو تُو ، وہ خو د تو کرتا ہی نہیں ہے
اس لئے ترے لفظوں میں تاثیر نہیں ہے
اکثر تری باتیں پھیلاتی ہیں فتنہ جہاں میں
ترے لفظوں میں کڑواہٹ ہے، شِیر نہیں ہے
تُو جو بھی کہے ، کیوں کرے کوئی
آزاد ہیں سب ، ترا کوئی اسیر نہیں ہے
افسوس کہ تُو اب صادق ہے نہ امیں ہے
اسوہ ترا حسنہ ، اخلاص ترا اثیر نہیں ہے
بناؤ نہ اسے اپنی اناء اور تسکین کی خاطر
مذہب ہے اسلام ، تری جاگیر نہیں ہے
سکھاتا ہے جو لوگوں کو، دکھاتا ہے جو دنیا کو
حقیقی وہ اسلام کی تو ، تصویر نہیں ہے
لڑتا جھگڑتا انسانوں کو اور دیکھ کے قتل و غارت
کیسا تُو انسان ہے کہ دلگیر نہیں ہے
پیار و محبت جو نہ سکھائے، سیدھی راہ پہ جو نہ چلائے
ایسا تو پھر مخلص عالم اور سچا پیر نہیں ہے
دیکھ کر جسے لوگ ،ترے دیوانے ہوں جائیں
ایسا ترا اخلاص اور ایسی تری تصویر نہیں ہے
لہو بہتا دیکھ کر کسی انساں کا ہوتا ہے تُو
اس لئے شاد کہ زندہ ترا ضمیر نہیں ہے
تفرقہ جو تُو پھیلاتا ہے مسلمانوں میں
بڑا ہے یہ ، کوئی چھوٹا سا تقصیر نہیں ہے
اسلام سکھاتا ہے جس قدر احترامِ انسانیت
اس طرح کا کوئی اور مذہب عالمگیر نہیں ہے
ہیں برابر خدا کی نظر میں سب انساں
کوئی غریب اور کوئی امیر نہیں ہے
مسلم ہیں سب بھائی بھائی پھر کیوں تُو نے کھنچی ہے
سُنی ، وہابی اور شیعہ کی، اسلام میں تو کوئی ایسی لکیر نہیں ہے
بول بالا ہوگا اک دن سارے عالم میں اس کا انشا ء اللہ
زوال تو کاشف مذہبِ اسلام کی تقدیر نہیں ہے
( نام نہاد ملاؤں اور عالموں کے بارے میں جن کا کوئی دین، مذہب اور وطن نہیں ہے جو صرف دنیا اور اس کے مال و دولت کی حوص میں گرفتار ہیں مخلص، سچے اور حقیقی مولویوں، علما ء اور پیرانِ عظام سے معذرت کے ساتھ)
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






