مِرا سنسار ہے وہ
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہکیا اور بھلا میں پیش کرُوں سر یہ ہے مِرا دستار ہے وہ
دِل میرا ہُؤا گھائل گھائل چُپ سادھے ہُوئے فنکار ہے وہ
اِس رِزق نے میرے بچّوں کو مسلُوب کِیا، مجبُور کِیا
اِک روٹی کے ٹُکڑے کی خاطِر اِس پار ہے یہ اُس پار ہے وہ
مانا ہے کہ میری نس نس میں ہر شخص کا مان ہے بڑھ چڑھ کر
مالِک تو وہ ہوگا ہی دَھن کا پر فرد بڑا بیکار ہے وہ
اے عِشق تڑپ نا رہ رہ کر تُو سادہ دِلی کا مارا ہے
اب کیسا گِلہ، کیوں اُس نے کِیا جو کُچھ بھی کِیا دِلدار ہے وہ
دُکھ درد کے مارے لوگوں میں سُکھ بانٹ کے جِینا سِیکھ ذرا
جو جان گیا یہ بھید میاں سچ پُوچھو تو زردار ہے وہ
کِس دیس کا باسی ہے ساجن بس اِتنا کہُوں ہے من بھاوَن
میں شہر ہُوں اُس کی چاہت کا لو اب سے مِرا سنسار ہے وہ
کہنے کو اگرچہ دُور تو ہے پر دِل کے پاس رہے حسرت
کیا کوئی جُدا کر پائے گا اِک پُھول ہُوں میں مہکار ہے وہ
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






