میرا احساس شوق دنیا جاں بلب ھو گیا
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaچاندی بالوں میں کیا سمائی عجب ھو گیا
احساس محرومیوں کا تازہ سبب ھو گیا
فرصت کے لمہے بس یہی سوچتے ھیں
ایک زمانہ ادھر سےادھر کب ھو گیا
بے کلی کی انتہاء اظراب کی سازشیں
میرا احساس شوق دنیا جاں بلب ھو گیا
ھم سخن ھم نواء کس کو کہیں آخر
یگانگت کا سایہ آفزوں جب ھو گیا
کا نٹوں کی سیج پر خوشیاں بس گئیں
خفا ھم سے جانے کیوں رب ھو گیا
یاروں کی دوستیاں پیاروں کی صحبتیں
وہ حسیں وقت میرا باعث کرب ھو گیا
دل بے قرار کچھ کھونے کے خوف سے
پریشاں نہ تھا کبھی جو اب ھو گیا
جزبہ تھا بے کراں عارف کے زوق میں
پر دنیا داریوں میں کہیں جزب ھو گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






