میرا  احساس شوق دنیا جاں بلب ھو گیا

Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississauga

چاندی بالوں میں کیا سمائی عجب ھو گیا
احساس محرومیوں کا تازہ سبب ھو گیا

فرصت کے لمہے بس یہی سوچتے ھیں
ایک زمانہ ادھر سےادھر کب ھو گیا

بے کلی کی انتہاء اظراب کی سازشیں
میرا احساس شوق دنیا جاں بلب ھو گیا

ھم سخن ھم نواء کس کو کہیں آخر
یگانگت کا سایہ آفزوں جب ھو گیا

کا نٹوں کی سیج پر خوشیاں بس گئیں
خفا ھم سے جانے کیوں رب ھو گیا

یاروں کی دوستیاں پیاروں کی صحبتیں
وہ حسیں وقت میرا باعث کرب ھو گیا

دل بے قرار کچھ کھونے کے خوف سے
پریشاں نہ تھا کبھی جو اب ھو گیا

جزبہ تھا بے کراں عارف کے زوق میں
پر دنیا داریوں میں کہیں جزب ھو گیا
 

Rate it:
Views: 608
25 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL