میرا جُدا مزاج ہے ا ُن کا جُدا مزاج
Poet: Daag Dehlvi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمیرا جُدا مزاج ہے اُن کا جُدا مزاج
پھر کس طرح سے ایک ہو اچھا بُرا مزاج
دیکھا نہ اس قدر کسی معشوق کا غرور
اللہ کیا دماغ ہے اللہ کیا مزاج
کس طرح دل کا حال کھُلے اس مزاج سے
پوچھوں *مزاج تو وہ کہیں، آپ کا مزاج
تم کیا کسی کے دل میں بھلا گھر بناؤ گے
بنتا نہیں بنائے سے بگڑا ہُوا مزاج
پالا پڑے کہیں نہ کسی بدمزاج سے
ہر وقت دیکھتے ہیں مزاج آشنا مزاج
کل اُن کا سامنا جو ہوا خیر ہوگئی
بدلی ہوئی نگاہ تھی بدلا ہوا مزاج
اُن کو بغیر چھیڑ کئے چین ہی نہیں
کتنی شریر طبع ہے کیا چلبلا مزاج
سچ ہے خدا کی دین میں کیا دخل ہوسکے
اک داغ کا مزاج ہے اک آپ کا مزاج
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






