دیکھ کر سانولی صورت تری یوسف بھی کہے

Poet: Daag Dehlvi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

دیکھ کر سانولی صورت تری یوسف بھی کہے
چَٹ پَٹا حُسن نمک دار سلونا کیا ہے

چار باتیں بھی کبھی آپ نے گھل مل کے نہ کیں
انہیں باتوں کا ہے رونا مجھے رونا کیا ہے

تیغ کھینچے ہوئے وہ ترک پھر اس پر یہ غضب
ہم تڑی دیتے ہیں بس آپ سے ہونا کیا ہے

تم پہ مر جائیں گے اس آس پہ ہم جیتے ہیں
زندگی شرط ہے تو جان کا کھونا کیا ہے

چمپئی رنگ پھر اس رنگ میں بجلی کی چمک
مات کندن ہے ترے رنگ سے سونا کیا ہے

Rate it:
Views: 1010
30 Aug, 2011
More Sad Poetry