میری ماں تو قدم رکھے جہاں جہاں
Poet: rizwana By: rizwana, torontoمیری ماں تو قدم رکھے جہاں جہاں
گل عقیدت کے میں وہاں بچھاتا چلوں
جاگی راتیں شہے درد جو میرے لئے
دکھوں کا تیرے کچھ بار میں اٹھاتا چلوں
ہو نصیب میں میرے خدمت تیری
تیرے پاؤں کی جنت میں پاتا چلوں
ہے ناممکن پر کروں کچھ ایسا
تیری وفاؤں کا بدلہ چکاتا چلوں
عظمت کا تیری نہ جگ میں ثانی کوئ
محبتوں کے تیری گیت میں گاتا چلوں
دعاؤں سے تیری میں معتبر جگ میں ہوا
تو ہے عزیز از جاں یہ بتاتا چلوں
رب کا ہے تو دوجا روپ ماں
فیض تیری شفقتوں کا اٹھاتا چلوں
فیروزاں میں تجھ سے تو روشنی میری
شمع ہدایت بن کے جگمگاتا رہوں
ہوں پردیسی تیری دعاؤں کا طالب
سندیسے پیار کے بھجواتا چلوں
More Life Poetry






