میری ننھی پری
Poet: Irfan Ali By: Irfan Ali, Rawalpindiوہ شہنائی کی گونج
وہ میری سیج کے پھول
کتنا دلکش تھا وہ حسیں نظارا
تیرا دلہن بن کے میری زندگی میں آنا
یاد آیا ہے مجھے آج کے دن
ہاتھوں پہ لگی مہندی کی مہک
چہرے پہ سجے جذبوں کی چمک
تیرا وجود مری زندگی کا حاصل
تیرا آنا میری زندگی کا حاصل
پھر وقت رخصت بھی آگیا
میری امیدوں کا موسم بھی آگیا
مگر اک کمی میں نے نہ دیکھی اس روز
تیری آنکھوں کی نمی میں نے نہ دیکھی اس روز
میں نہ سمجھا وہ بدائی کا عالم
وہ بابل کی تڑپ وہ جدائی کا عالم
وہ ممتا کی بے بسی
وہ اپنوں کی کمی
خود غرض تھا میں
کیسی تھی وہ خود غرضی
آج وہ دن یاد آیا ہے جب
کھلی ہے اک کلی
میرے آنگن میں ننھی سی
وہ ننھی منھی بانہیں
وہ نازک ادائیں
وہ ہونٹوں کے پھول
وہ نرم پیروں کی دھول
کتنا معصوم ہے اسکا چہرا
جیسے ہو کوئی خاب سنہرا
اپنے سینے سے لگائے ہوئے
میں چپ کھڑا سوچ رہا ہوں
اک حسرت سے اسے دیکھ رہا ہوں
یہ آنکھ کیوں نم ہو جاتی ہے
میری سوچ یہ خیال لاتی ہے
تیری جدائی کا
تیرے جانے کا خیال کتنا عجیب ہے
اے میری ننھی پری
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






