میری نگری بھی جنت سے کم تو نہیں ہے کمی آپ کی آپ آ جائیے
Poet: سردار حمادؔ منیر By: Hammad Munir, Abbottabadمیری نگری بھی جنت سے کم تو نہیں ہے کمی آپ کی آپ آ جائیے
اک شرر دل میں بے نور ہونے کو ہے اپنی گرمیِ محفل سے بھڑکائے
روبرو آ کے میرے جو بیٹھے ہی ہیں مجھ سے نظریں چراتے ہیں پھر کس لیے
اک نگاہ کرم ہے مرے ہم نشیں مجھ پہ بھی مہرباں آج ہو جائیے
زندگی کا تو کوئی بھروسہ نہیں کب گنہگار دنیا کو رخصت کہے
آرزو ہے کہ تم کو لگائیں گلے جان جاں ہم پہ احسان فرمائیے
ہم تو بے چین ہیں اور رہیں گے سدا اور یہ عمر رواں یوں ہی کٹ جائے گی
ظلم بڑھتا رہا تو یہ مٹ جائے گا دیکھئے ہم کو اتنا نہ تڑپائیے
ہم کو معلوم ہے ہم حسیں بھی نہیں لائقِ عشق اور دل نشیں بھی نہیں
آپ روشن قمر آپ نورِ نظر میرے بجتے ستاروں کو چمکائیے
کس طرح داستان محبت کہوں سوز ہے ساز ہے اور نہ ہے نغمگی
اہل محفل بھی ہیں آپ کے منتظر آپ آ جائیے دل کو بہلائیے
ذوق دیدار میں دل یہ بے چین ہے ، آپ چلمن سے ہٹ کر ذرا بیٹھئے
یہ خرابات ٹوٹا ہوا اک بشر ، آپ کا ہے اسے آپ اپنائیے
صاف ظاہر ہے جتنا چھپائیں اِسے آپ کا دل بھی بے چین ہے جانِ جاں
آپ کو بھی محبت ہے ہم سے اگر ہم کو بتلائیے یوں نہ شرمائیے
ہم نے پیغامِ الفت جو بھیجا کبھی ، منہ میں انگلی دبا کر یہ کہنے لگے
ہے یہ حامیؔ مرا مشورہ آپ کو ، مجھ پہ مرنے سے اچھا ہے مر جائیے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






