میرے اپنوں کے بول میرے ہی آ گئے آگیے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہر دعا کو لوٹا دیا
ہر التجاء کو ٹھکرا دیا
مولا ! وہ میرا پیار نہیں
عشق تھا جسے
ُتو نے نا نواز کہ
خاک میں ملا دیا
میں نے ُتو تجھ پے
غرور کیا تھا
پھر کیوں ؟ ُتو نے
میرے غرور کو
نچاء دیکھا دیا
میں تھک گیا
تقدیر سے لڑتے لڑتے
ُتو نے کیوں
مجھے اس دنیا میں
تماشا بناء دیا
میرے اپنوں کے بول
میرے ہی آ گئے آگیے
جبکہ میں نے تو
اپنا سر تیرے
سجدوں میں جھکا دیا
پھر یہ کیسی آزماش ہیں
جہاں دل تو روتا ہیں
مگر میرے لبوں پے
ہنسی کو سجا دیا
مجھے کچھ خبر نہیں
کہ میری زندگی کس
رخ کو جا رہی ہیں
جبکہ ُتو گواہ ہیں
کہ میں نے اپنی
زندگی ُاسے بناء دیا
پھر یہ کیسی ہیں
دوریاں ، مجبوریاں
جبکہ میں نے اپنا
دامن تجھے تمھاء دیا
تو سب جان کر بھی
کیوں انجان ہیں مولا
جبکہ ُتو نے
خود ہی مجھے اپنا
بندہ بنا دیا
( کسی کی حقیقتی کہانی کو لفظوں میں بیان کیا ہے )
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






