میرے اپنوں کے بول میرے ہی آ گئے آگیے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہر دعا کو لوٹا دیا
ہر التجاء کو ٹھکرا دیا
مولا ! وہ میرا پیار نہیں
عشق تھا جسے
ُتو نے نا نواز کہ
خاک میں ملا دیا
میں نے ُتو تجھ پے
غرور کیا تھا
پھر کیوں ؟ ُتو نے
میرے غرور کو
نچاء دیکھا دیا
میں تھک گیا
تقدیر سے لڑتے لڑتے
ُتو نے کیوں
مجھے اس دنیا میں
تماشا بناء دیا
میرے اپنوں کے بول
میرے ہی آ گئے آگیے
جبکہ میں نے تو
اپنا سر تیرے
سجدوں میں جھکا دیا
پھر یہ کیسی آزماش ہیں
جہاں دل تو روتا ہیں
مگر میرے لبوں پے
ہنسی کو سجا دیا
مجھے کچھ خبر نہیں
کہ میری زندگی کس
رخ کو جا رہی ہیں
جبکہ ُتو گواہ ہیں
کہ میں نے اپنی
زندگی ُاسے بناء دیا
پھر یہ کیسی ہیں
دوریاں ، مجبوریاں
جبکہ میں نے اپنا
دامن تجھے تمھاء دیا
تو سب جان کر بھی
کیوں انجان ہیں مولا
جبکہ ُتو نے
خود ہی مجھے اپنا
بندہ بنا دیا
( کسی کی حقیقتی کہانی کو لفظوں میں بیان کیا ہے )
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






