میرے کشمیر
Poet: By: Umair Khan, Karachiجنت ارضی کبھی تھا اے میرے کشمیر تو
گوہر شمسی کبھی تھا اے میرے کشمیر تو
کیوں چناروں میں لگی ہے آگ اٹھتا ہے دھواں
پربتوں کی برف آخر خون میں ہے کیوں نہاں
آبشاروں کے ترنم ہو گئے کیوں نوحہ خواں
مرغزاروں کے غزالوں پر ہے وحشت کا سماں
لحن داؤدی کبھی تھا اے میرے دل گیر تو
جنت ارضی کبھی تھا اے میرے کشمیر تو
ادھ کھلی کلیاں چمن سے نوچ کر پھینکی گئیں
کوکھ ماؤں کی اجڑتی ہر طرف دیکھی گئیں
مانگ میں خوں کی لکیریں ہائے کیوں کھینچی گئیں
اور سروں سے چادریں تقدیس بھی نوچی گئیں
چشمہء آب حیا تھا پابہء زنجیر تو
جنت ارضی کبھی تھا اے میرے کشمیر تو
جب دھواں اٹھتا ہے درگاہوں سے اور بہتا ہے خوں
ان کٹھن حالات پر میں چپ بھلا کیونکر رہوں
متحد مسلم کی غیرت کو نہ کیوں آواز دوں
توڑ دو ہندوستان کی ہر تجارت کا فسوں
ٹوٹتے خوابوں کی ہوگا اک نئی تعبیر تو
جنت ارضی کبھی تھا ائے مرے کشمیر تو
کاش وادی کی فضا میں پھر نظاروں کا ہو گیت
کاش وادی کی ہوا میں پھر بہاروں کا ہو گیت
کاش وادی کی گھٹا میں پھر پھواروں کا ہو گیت
کاش وادی کی گپھا میں پھر اشاروں کا ہو گیت
ہے دعائے سلمیٰ پائے اک نئی تقدیر تو
جنت ارضی کبھی تھا اے میرے کشمیر تو
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






