میں اور میری تنہائی

Poet: Farkhanda Rizwi By: Shazia Hafeez, Attock

رات کا اک پل مجھے کہیں دور
بہت دور لے گیا
آنکھوں میں نیند نہ پھر بھی
کھلی آنکھوں میں خواب سجائے میں نے
ایک پھول کھلا تھا کہیں
شاخ پر لگا جیسے بوجھ دہراہے کوئی
وہ شاخ جھکی تو جھکتی ہی گئی
نا جانے محبت کا نشہ تھا یا مجبوری اس کی
پاس ہی بھنورا کہیں سے اک چلا آیا
پل کے لئے ٹھہرا پھول سے آنھ ملائی
چل دیا اک طرف
ایسے میں رات کا پہر بڑھنے لگا
کہیں سے ایک جگنو آ بیھٹا ہمدرد بن کر
پھول پر پڑے تھے، شبنم کے چند قطرے
آنسو سمجھ کر چن لئے اس نے
پھر سنبھلنے کی دعا دی اس کو
یہ بھی ایک انداز تھا محبت
پھر رات کا پہر بھی دھیرے دھیرے بڑھتا گیا
صبح کی ہوا ساتھ ہی روشنی کی کرن لائی
پھول کا کیا ہوا
شبنم ہوئی رخصت سورج کی کرن کے ساتھ
پھول نہ بے وفائی سہہ پایا ان رشتوں کی
پھر بکھر گیا اس ہوا کے سنگ سنگ
میں نا دیکھ پائی تماشہ اس جدائی کا
پلٹی جو میں تو میرے سنگ بھی کوئی نہ تھا
نہ نیند میری نہ خواب میرا
بس میں اور وہی میری تنہائی تھی

Rate it:
Views: 701
01 Jul, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL