میں اُس کی آنکھوں میں

Poet: MOHSIN By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

میں اُس کی آنکھوں میں
چھوڑ آیا تھا خواب اپنے
وہ خواب جن کی تمازتوں میں
" تمام سچ تھا "
وہ خواب تکمیلِ آرزو کی نشانیاں تھے
وہ خواب میری وفا کی اُجلی کہانیاں تھے
میں سوچتا ہوں
کہ اَب کبھی چاندنی میں بھیگی ہُوئی ہوائیں
جب اُس کی آنکھوں سے
نیند کا کچھ خمار
اُس کے بدن کی خوبشو سے چُور
کوئی پیام لائیں
تو میں بھی مانگوں حساب اپنے
میں اُس کی آنکھوں سے مُسکرا کر طلب کروں
پھر سے خواب اپنے
میں اُس کو بھیجوں عذاب اپنے
وہ خواب اپنے
بچھڑتے لمحوں کی
بے صدا جلد باز رُت میں
جب اُس کے ہونٹوں کی نرم چھاؤں
مجھے جدائی کی دُھوپ دے کر
حواس کی انگلیوں سے
دامن چھڑا رہی تھی
تمام رَسموں تمام قَسموں کی جلتی شمعیں
بجھا رہی تھی
 

Rate it:
Views: 495
12 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL