میں زندگی کو اِدھر اُدھر کر بیٹھا ہوں

Poet: احسن فیاض By: احسن فیاض, Badin

ایک شخص کی خاطر جبر کر بیٹھا ہوں
میں زندگی کو اِدھر اُدھر کر بیٹھا ہوں

اس لمحے پے تو قیامت برپہ کرنی تھی
مگر نہ جانے کیوں اب صبر کر بیٹھا ہوں

عہد تھا شدتِ اذیتِ فراق سے نہ روئوں گا
عہد ٹوٹ گیا جاناں چشم تر کر بیٹھا ہوں

وہ نفیس مزاجی چھین لی زمانے نے
آ کے دیکھ اب دل کو پتھر کر بیٹھا ہوں

بھرمِ عہد کی خاطر اس محفل میں
ہاں جان بیٹھا ہوں مر کر بیٹھا ہوں

تجھ جیسے وعدہ شکن پے اعتبار
نہیں کرنا چاہیے مگر کر بیٹھا ہوں

میری اب خواہشِ مختصر وصل نہیں
اسی لئے وصل کو ہجر کر بیٹھا ہوں

Rate it:
Views: 1175
04 Apr, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL