میں سوچتا ہوں کہیں ٹُوٹ ہی نہ جاؤں میں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمیں سوچتا ہوں کہیں ٹُوٹ ہی نہ جاؤں میں
اگر یہ ہجر میں کچھ اور پل بِتاؤں میں
میں سوچتا ہوں کہ دنیا تمہیں بدل دے گی
چلے جو بس تمہیں دنیا سے چھین لاؤں میں
میں سوچتا ہوں کہ جگنُو کو نوچ ہی ڈالوں
تمام تتلیاں پر کاٹ کر اُڑاؤں میں
میں سوچتا ہوں کہ اُجڑے شجر پہ ظلم کروں
برہنہ شاخیں شجر کی سبھی ہِلاؤں میں
میں سوچتا ہوں کسی کا بھی اب ملن مت ہو
یوں بیٹھے شاخ پہ دو پنچھی بھی اُڑاؤں میں
میں سوچتا ہوں مری طرح سب اُجڑ جائیں
کہ جب وہ روئیں تو جی بھر کے مسکراؤں میں
میں سوچتا ہوں کہ گُل ہوں سکندری کے چراغ
سکندروں کے سبھی تاج توڑ آؤں میں
میں سوچتا ہوں زمانہ کبھی بدل جاۓ
جو ہیں غریب انہیں تخت پر بھی پاؤں میں
میں سوچتا ہوں کبھی ڈھونڈ لاؤں آبِ حیات
ہیں میرے جتنے بھی دُشمن اُنہیں پِلاؤں میں
میں سوچتا ہوں کبھی کام ایسا کر جاؤں
عدُو کی آنکھوں میں بھی آنسُو چھوڑ جاؤں میں
میں سوچتا ہوں کہ پاگل کہیں نہ ہو جاؤں
تمہارے ہجر کی شمع کبھی بجھاؤں میں
میں سوچتا ہوں کبھی خُود کو قتل کر ڈالوں
اور اپنے خُون کے تالاب میں نہاؤں میں
میں سوچتا ہوں کہ باقرؔ مَروں تو کچھ ایسے
کہ دُشمنوں کو بھی شِدّت سے یاد آؤں میں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






