میں نے ہر سمت سے اسکو یوں بنانا چاہا
اسکے ہر خواب میں اک خواب سجانا چاہا
وہ یوں بیکار بے مروت سا نکلا تو پھر
مجھے ہر خیال اور ہر بات پر رونا آیا
ساتھ تھا میرے بظاہر وہ مگر نا جانے
کیوں اسے غیروں کی محفل میں یو مزا آیا
مجھکو کہتا رہا کہ میں ہوں اک شدید برا
خود کو اک خوب معتبر وہ سمجھتا آیا
مختصر گفتگو میں بے حساب برائ میری
دراصل ذلیل مجھے اک عرصے سے کرتا آیا
یہ اک تلخ حقیقت کہ وہ میرا ہے ہمسفر
اور یہ لفظ مجھے پھر زہر نما لگتا آیا
رب کرے خوش رہے تو اوروں کے ساتھ انکی طرح
تیری خواہش کے مطابق تمنے جیسا چاہا