میں کانوں کو ہاتھ لگاؤں دیکھو مرغا بن کے
Poet: Muhammad Sabir By: Muhammad Sabir, Lahoreمیں کانوں کو ہاتھ لگاؤں دیکھو مرغا بن کے
غصہ چھوڑو اور دکھلاؤ مجھ کو بلی بن کے
ایک کہانی گڑیا والی تجھ کو بیٹھ سناؤں
کیا کیا جنگل میں ہوتا ہے چل آجا بتلاؤں
بلی گیدڑ بھیڑ اور بکری کیا کرتے تھے سارے
ایک گھاٹ کا پانی پیتے تھے وہ کیسے سارے
بابا تیرے نوکر جانی بولو گانا گاؤں
تو بولے تو ناچوں جانے کیا کیا کھیل دکھاؤں
چل میں تجھ کو بتلاتا ہوں کیسے بندر کرتے
کیسے ککڑ باگاں دیتے ڈھیچوں ڈنکی کرتے
آجا میری ملکا آجا میں ہوں تیرا گھوڑا
بیٹھ سواری کر لے آجا ورنہ یہ تو دوڑا
گر کہتی ہو مجھ سے جانی چکی چکی کھیلیں
ہاں جی چھوڑو اب تو کٹی پکی پکی کھیلیں
میرے بازو پر تو آ جا گھڑیاں خوب بنا لے
اپنے پھول سے دانتوں سے تو کلیاں خوب کھلا لے
مکی ماؤس چھوڑو بیٹھو میں ہوں تیرا جوکر
میں ہوں تیرا بابا گھابا میں ہوں تیرا نوکر
آ بابا کے سینے لگ جا آ جا گڑیا رانی
آری ملکی ریشم نلکی آجا دلبر جانی
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






