ناروا اطوار
Poet: KaiserMukhtar By: Kaiser Mukhtar, Hong Kongلوگ سیانے ہوگئے ہیں
زندگی کی تپتی دھوپ میں
جل کے کندن ہوگئے ہیں
وقت کی رفتار ماپتے ہیں
اڑان بھرتے ہیں.... پنچھیوں کی طرح
اور منزل منزل رواں دواں ہیں
مگر جذبات کی تند رو میں
بہہ جاتے ہیں....معصوم بچوں کی طرح
اور عشق کی تند آگ میں
جھلس جانے کو بھی تیار بیٹھے ہیں
مقدس پاک رشتوں کی
اب بھی کی جاتی ہے قدردانی
شمع جلے تو اب بھی پروانہ
چلا آتا ہے جاں ہتھیلی پہ لئے
ماں کو ہے بچے سے اب بھی اسی قدر پیار
اور باپ کی شفقت کی بھی ہے وہی بھرمار
مگر معیار بدل گئے ہیں
قول و قرار بدل گئے ہیں
قدر نوع انسانی میں ہے گراوٹ بے تحاشہ
لگا ہے انساں کے ہاتھوں انساں کی تذلیل کا تماشہ
دولت میں تلتی ہے" قدر " نوع انساں کی
بازار میں بکتے ہیں ہنر اور ہنرمند
تہذیب کے معیار الگ ہوگئے ہیں
دین و دنیا کے اطوار الگ ہوگئے ہیں
کہیں مٹی میں ملتے ہیں
روز اجل میں انساں
اور کہیں پہ جانور بھی نہیں سہ پاتے
سلوک نا روا
کہیں پہ آدمی روٹی کو ترستا ہے
اور کہیں پہ کتا بھی مکھن کھا کے سوتا ہے
خدا جانے" یہ " معیار کیوں پنپتے ہیں
سہ پاتی ہے قدرت کیونکر یہ ناروا اطوار
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






