نامہءِ عشق میں تاثیرِ التجاء کیلئے

Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachi

نامہءِ عشق میں تاثیرِ التجاء کیلئے
جگر کے خون سے لکھو ذرا وفا کیلئے

طبیبِ عشق نے نسخہءِ وصل لکھا ہے
مجھے ملو تو کہیں مرض کی دوا کیلئے

امیدِ دل ہے کہ اک بار دیکھ لوں تجھ کو
ہزار سجدے کئے بھی تو اس دعا کیلئے

ہے عاشقی بھی جرم آج کل زمانے میں
ہجر کی تیرہ شبی ہے سزا وفا کیلئے

ستم ظریفیءِ دوراں بھی بڑھ گئی اب تو
تری جدائی کیا کم تھی میری سزا کیلئے

نہ کر جفا کہ تیری آنکھیں ہی کافی ہیں
تیری نگاہ ہی ہے کافی میری قضاء کیلئے

نہ کر تو اتنی محبت کہ ہوچکی احسن
تری وفا بڑی مضر تیری انا کیلئے

 

Rate it:
Views: 751
11 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL