نوائےانسان
Poet: Mohammad shaukat mehmood By: Mohammad shaukat mehmood, Jhelumمیرے شعورمیں ھے یہ ظاہریت لیکن
اور کیاجانیں،میرےباطن کی حقیقت کیا ھے
پاسکتاھوں اس سرنہاں کو،گرباطن میں جھانکوں زرا
اس دنیامیں،میرےھونےکی حقیقت کیاھے
علم ھر چیز کاپنہاں،میرےاپنےھی باطن میں ھے
چارہ گرکیاسمجھیں،میری اپنی حقیقت کیاھے
پروازمیری عقل کی اتنی ھےاےدنیاوالو
جان سکتاھوں میں،یزداں کی حقیقت کیاھے
ابھی تومیں نےخودکو،ان کہکشاؤںمیں رہ کےجاناھے
مجھےتوجانناھے،ان کےآگےکی حقیقت کیاھے
گرعلم مقدرھو،ھرنومولودکا اس دنیا میں
جلدجالےانسان،کائنات کی حقیقت کیاھے
دنیاتواس وقت،قتل وغارت میں ھےخودکوالجھائےھوئے
ان کوکیامعلوم،امن کی حقیقت کیاھے
ابھی توچندذھن ھیں اس فکرمیں خودکوالجھائےھوئے
کہ اس دنیامیں،قدرت کی حقیقت کیاھے
سوچ ھرذھن کی جب ھوجائیگی اس فکر کی مانند
پھرشایدکچھ سمجھ آئے،اس دنیاکی حقیقت کیاھے
مجھ پہ گرفضل ھومیرےمالک کا،اے شوکت
میری عقل بتاسکتی ھے،اسرارکی حقیقت کیا ھے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






